Design a site like this with WordPress.com
Get started

اعلیٰ تعلیم یافتہ اولاد کیا اچھے اخلاق کی بھی مالک ہے؟ تعلیم اور تربیت دو الگ چیزیں ہیں

چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے تمام والدین ہی بہت فکرمند ہوتے ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش بھی کرتے ہیں۔ بچہ جب سکول کی عمر تک پہنچتا ہے تو بہترین تعلیمی اداروں میں داخل کرواتے ہیں۔  اپنی استطاعت  سے بڑھ کر  ٹیوٹر یا اکیڈمی کا انتظام کرتے ہیں۔  بچوں کا حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں کہ وہ امتحان میں بہتر سے بہتر کارکردگی کیلئے محنت کرتے رہیں۔ بھاری فیسوں ، مہنگی کتابوں اور بڑے سکولوں کے دیگر لوازمات کو پورا کرنے کیلئے صبح شام محنت کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے کبھی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔ بچوں کو دنیا میں کامیاب انسان  بنانے کیلئے یہ سب چیزیں بہت ضروری لگتی ہیں اور والدین ان باتوں پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرتے۔ مگر۔۔۔

کیا یہ سب بچوں کو کامیاب  انسان بنانے کیلئے کافی ہے؟ کہیں آپ کچھ مِس تو نہیں کر رہے؟ کچھ بہت اہم جس کے بغیر آپ کے بچے کامیاب بزنس مین یا بڑے عہدے دار تو شاید بن جائیں لیکن  کبھی بھی کامیاب اور اچھے انسان نہیں بن سکتے۔حتیٰ کہ وہ اچھی اولاد بھی ثابت نہیں ہو سکتے۔  ضرور غور کریں کہ کہاں کمی ہے؟  کیا آپ نے اپنے بچے کو اچھی اور بری بات کا فرق بتایا ہے؟ کیا آپ نے انہیں بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کرنا سکھایا ہے؟ کیا ان میں انسانیت، محبت، ایثار اور خدمت کا جذبہ پیدا کیا؟  کیا مسلمان ہونے کے ناطے انہیں نماز روزے کا پابند بنایا اور قرآن سکھایا ہے؟

:ارشادِ باری تعالیٰ ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لاَّ يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ (at-Tahrīm, 66 : 6)مَا يُؤْمَرُونَ
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جس پر سخت مزاج طاقتور فرشتے (مقرر) ہیں جو کسی بھی امر میں جس کا وہ انہیں حکم دیتا ہے اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام انجام دیتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے

ہمارے گھر کے پاس ہی ایک عالیشان گھر میں بوڑھے ماں باپ رہائش پذیر ہیں جن کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بڑے عہدوں پر فائز اولاد کے پاس انھیں ملنے آنے کیلئے بھی وقت نہیں ہے۔

مجھے ایک ایسا واقعہ بھی یاد ہے جب ایک بہت پڑھے لکھے گھرانے میں ان کے والدصاحب کی اچانک وفات ہوئی تو ان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اولاد نمازِ جنازہ پڑھنا  نہیں جانتی تھی  اور نہ ہی کفن دفن کے معاملات سے واقف تھی۔ 

ہمارا معاشرہ اس طرح کے واقعات سے بھرا پڑا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم تو دلواتے ہیں مگر دینی تعلیم  و تربیت کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں ہوتی اور اسے ایک بیکار چیز سمجھتے ہیں۔ مائیں بچوں کو گھر کے بڑوں کی خدمت کرنے سے اس لیے منع کرتی ہیں کہ پڑھائی کا حرج ہو گا۔  ماں شدید بیمار ہوتی ہے لیکن بچے ماں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ اسے کَل سکول میں ہونے والے ٹیسٹ کی تیاری کرنا ہوتی ہے۔

!یاد رکھیے

ہماری درس گاہوں میں بچوں کو صرف تعلیم دی جاتی ہے اور انھیں پڑھنا لکھنا سکھایا جاتا ہے ۔  یہ ہمارے بچوں کی تربیت گاہیں ہرگز نہیں ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑے سکولوں میں آپ کے بچے اعلیٰ اخلاقی اقدار بھی سیکھ رہے ہیں تو آپ غلط ہیں۔ وہاں آپ کے بچے صرف اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔  بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت  آپ کو خود ہی کرنی ہے ۔اور یہ والدین ہونے کے ناطے آپ کا دینی، اخلاقی اور معاشرتی  فریضہ ہے۔ اپنے بچوں کو اچھا  انسان اور اچھا مسلمان بنائیں تاکہ جب آپ کے بچے بڑے ہو جائیں تو آپ اپنی کی گئی تربیت پر فخر کر سکیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: