Design a site like this with WordPress.com
Get started

اولاد کی اسلامی تربیت

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ  (التحریم: 6)

اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

اس آیتِ مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہم پر اپنے اہل و عیال کی اسلامی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی اولاد کو نیکی کی تربیت دیں اور برائی سے بچنا سکھائیں۔ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری والدین پر اسی وقت عائد ہو جاتی ہے جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اس کا مشاہدہ اور شعور پروان چڑھتا جاتا ہے اور وہ اپنے والدین، گھر اور ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ایسے میں اسلام والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تربیت کا ایسا ماحول مہیا کریں جس میں وہ اچھائی اور برائی کا شعور حاصل کر سکیں۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا

”مَانَحَلَ والدٌ أفضلَ مِنْ أدبٍ حسنٍ“․ (بخاری، جلد:۱،ص:۴۲۲)

کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھا دے۔

حضرت علی ؓ نے  فرمایا:

’’ان (اپنی اولاد) کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا قول ہے

”اپنی اولاد کوادب سکھلاوٴ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گاکہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین چیزوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے: ایک صدقہ جاریہ، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، تیسرے نیک اولاد جو ان کیلئے دعا کرتی رہے۔

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اولاد کی اگر دینی تقاضوں کے مطابق  تربیت کی جائے تو نہ صرف اس دنیا میں بلکہ مرنے کے بعد بھی انسان کو اس کا ثواب پہنچتا رہتا ہے۔ ہمارے ارد گرد بہت سے  ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن پر غور کر کے ہم بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کی کس نہج پر تربیت کرنی ہے۔ آپ مشاہدہ کریں کہ ماں باپ کی فرمانبردار اولاد وہی ہوتی ہے جن کی اسلامی تربیت کی گئی ہو۔ جنھیں بڑے چھوٹے کی تمیز سکھائی گئی ہو۔ جنھیں ان کے والدین نے  وہ تمام اخلاقیات سکھائے ہوں جو ایک اچھے انسان میں ہونے چاہئیں۔ یہی بچے بڑے ہو کر فرمانبردار اولاد، اچھا شوہر/بیوی، اچھے والدین اور اچھے بہن بھائی ثابت ہوتے ہیں۔ اور اگر والدین ’اعلیٰ تعلیم‘ تو دلوا دیں لیکن تربیت کی طرف کوئی توجہ نہ دیں تو ہر خاندان، ہر گھر غرض  پورے معاشرے کی جو بگڑی ہوئی  حالت ہے وہ آج ہمارے سامنے ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: