Design a site like this with WordPress.com
Get started

کیا کسی دوسرے کا مذاق اڑانا۔۔۔ آپ کے اندر چھپے احساسِ کمتری کا اظہار ہے

ہمارے معاشرے میں کسی دوسرے کا مزاق اڑانا ایک بہت ہی کامن بات ہے۔ اور اسے تفریح کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ انتہائی  قریبی دوستوں میں تو  یہ ایک عام بات ہوتی ہے اور نارملی اس کا مقصد صرف تفریح ہی ہوتا ہے نا کہ کسی کو نیچا دکھانا یا اس کی بے عزتی کرنا۔ لیکن عام معاشرتی حلقوں بالخصوص فیملی گیدرنگ میں دوسرے کا مذاق اڑانے کا مقصد صرف تفریح نہیں ہوتا۔ جو بات کسی کو ویسے نہیں کہی جا سکتی وہ مذاق اڑٓنے کے انداز میں کر دی جاتی ہے۔ دوسرے کا مذاق اڑانے والاسمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ اس شخص کو باقی لوگوں کے سامنے نیچا دکھانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ 

لیکن! 

اگر آپ کبھی کسی کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں آپ کی انا کو تسکین ملتی ہے عجیب سی شیطانی خوشی ہوتی ہے تو مطلب آپ کسی احساسِ کمتری میں مبتلا ہیں۔ جی ہاں ! کسی دوسرے کا مذاق اڑا کر خوشی حاصل کرنا آپ کے اندر چھپی احساسِ کمتری کا اظہار ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ  (الحجرات49:11)

اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں.

اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر  اس عمل سے منع فرمایا ہے جو شیطان کے راستے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ آغاز ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں  سے ہی ہوتا ہے لیکن ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب یہ باتیں ہماری عادات بن جاتی ہیں اور اتنی پختہ عادتیں بن جاتی ہیں کہ ہم چاہ کر بھی ان عادات کو چھوڑ نہیں پاتے۔ اس لیے ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے اور بُری عادتوں کو آغاز میں ہی کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ کیونکہ چھوٹا سا پودا اکھاڑنا  آسان ہوتا ہے لیکن درخت کاٹنا بہت مشکل  ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: