Design a site like this with WordPress.com
Get started

مھدی سوڈانی ۔ امام مھدی ہونے کا ایک جھوٹا دعویدار۔ کیسے اس نے پورے سوڈان پر قبضہ کیا

مھدی تحریک کا بانی محمد احمد بن عبداللہ نے امام مھدی ہونے کا دعوی کیا تھا۔ امام مھدی کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی بشارت ہے  کہ وہ قیامت سے قبل تشریف لائیں گے اور مسلمانوں کی امامت کریں گے۔  محمد احمد کی یہ تحریک دیگر اصلاحی تحریکوں کے برعکس گمراہ تحریک اسی لیے کہلائی کیونکہ اس نے خود کو امام مھدی کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس نے لوگوں کو یہ ترغیب دی کہ بطورِ  امام مھدی  اس کی بیعت کریں اور دینِ اسلام کے متعلق اس کی تشریحات کو قبول کریں۔ مسلمانوں میں امام مھدی کی آمد سے متعلق جو عقیدہ موجود ہے ، محمد احمد نے اس عقیدے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ۔ ابتدا میں اس کی طبیعت تصوف کی طرف مائل تھی۔ لہذا معمولی سی ابتدائی تعلیم کے بعد اس نے ۱۸۶۱ ء میں سلسلہ سمانیہ میں شیخ محمد شریف کی بیعت کر لی۔  سات سال کی مریدی کے بعد شیخ صاحب نے اسےاپنے سلسلہ کی خلافت دے دی۔ کچھ عرصے بعد وہ ابا نامی جزیرے میں چلا گیا جو کوستی کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں اس نے ایک جامع مسجد اور ایک خانقاہ تعمیر کروائی۔ لیکن ۱۸۸۱ء میں جب اس نے امام مھدی ہونے کا دعویٰ کیا تو اپنے مرشد شیخ محمد شریف سے اس کے تعلقات خراب ہو گئے۔  محمد احمد بن عبداللہ نے سوڈان کے تمام ممتاز لوگوں کے نام یہ مراسلات ارسال کرنا شروع کر دئیے کہ جناب سرورِ عالم ﷺ نے جس مھدی کے آنے کی اطلاع دی تھی وہ میں ہوں ، مجھے خداوند ِ عالم کی طرف نے سفارتِ کبریٰ عطا ہوئی ہے تاکہ میں دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دوں اور ان تمام خرابیوں کی اصلاح کروں جو لوگوں نے دینِ متین میں پیدا کر دی ہیں۔ مجھے حکم ملا ہے کہ تمام عالم میں ایک مذہب، ایک شریعت اور ایک ہی بیت المال  قائم کروں اور جو شخص میرے احکام کی تعمیل نہ کرے اسے ختم کر دوں۔ [1] اس وقت حالات ایسے تھے کہ مصری عوام حکومت کے ہاتھوں تشدد اور استحصال کا شکار تھی۔ لوگوں میں بد دلی اور بے اطمینانی پیدا ہوچکی تھی۔ ترکوں اور عربوں میں بھی نفاق تھا اور ترکوں کے حکمران طبقے سے اہلِ تشیع کی مخالفت چل رہی تھی۔ محمد احمد نے بھانپ لیا کہ یہ سب حالات اس  کے مھدیت کے دعویٰ کو بارآور ثابت کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ آغازمیں ہی اس کی تحریک معاشی اور معاشرتی خیالات سے مخلوت ہو گئی جو مشرق میں مذہب سے علیحدہ نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن آخر میں اس تحریک نے کچھ منفی رُخ اختیار کر لیا اور اصلاحی تحریک سے  سیاسی  اور عسکری تحریک کا روپ دھار لیا۔ محمد احمد نے پہلے تو لوگوں کو ترکوں کے خلاف جہاد کی دعوت دی  اور کئی سرداروں کو بیعت کے ذریعے اپنے ساتھ ملا لیا۔ پھر خرطوم کی حکومت کے ساتھ گفت و شنید میں ناکامی کے بعد اس کی طرف سے حکومت کی مخالفت جنگوں کی صورت اختیار کر گئی۔ انھی جنگوں کے نتیجے میں سارا سوڈان محمد احمد کے قبضے میں آگیا۔ محمد احمد خود تو زیادہ دیر حکومت نہ کر سکا لیکن اس کے بعد اس کے خلیفہ عبداللہ نے حکومت کی اور محمد احمد کے عقائد کو سختی سے نافذ کیا۔  اس کے دورِ حکومت میں اگر کوئی محمد احمد کو جھوٹا کہتا یا اس کے عقائد کو رد کرتا تو اسے موت کی سزا دی جاتی۔ مہرحال محمد احمد اپنے  امام مھدی ہونے کے جھوٹے دعویٰ اور اپنے باطل عقائد سے قطع نظر ایک بہت بہادر اور نڈر انسان تھے۔ اس نے کبھی کسی جنگ میں شکست نہیں کھائی اور انگریزوں کو سوڈان سے نکال باہر کیا۔ جبھی تو وہ ایک ایسے شجاع اور بہادر آدمی کے طور پر مشہور ہوا جو خاکِ مذلت سے اٹھ کر آناً فاناً سارے ملک کا فرمانروا بن گیا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ محمد احمد نے اگر مھدی ہونے کا دعوی نہ کیا ہوتااور اسلام کے صحیح عقیدے سے گمراہ نہ ہوتا تو وہ اسلام کیلئے بہت کارآمد ثابت ہو سکتا تھا۔


[1] ابوالقاسم رفیق دلاوری، جھوٹے نبی، صفحہ ۵۲۵

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: