Design a site like this with WordPress.com
Get started

سنوسی تحریک۔ جس نے لاکھوں لوگوں کو اسلام سے روشناس کیا

سنوسی تحریک کے بانی  محمد علی بن سنوسی ۱۷۸۷ ء میں الجیریا میں پیدا ہوئے۔  انھوں نے قاہرہ اور مکہ سے تعلیم حاصل کی ۔ جہاں انھیں فقہ  اور حدیث کے عالم کی حیثیت سے شہرت ملی۔ انھوں نے مسلمانوں کے درمیان قبائلی اور علاقائی انتشار کو مسترد کرتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت کو پھر سے اجاگر کیا۔  وہ مکہ کے ایک مشہور محدث اور مجدد صوفی احمد بن ادریس کے شاگرد تھے۔ انھوں نے اس عظیم مصلح کی پیروی کرتے ہوئے تصوف اور فقہ اسلامی کی اصلاحات  کیں جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ علماء اور صوفیاء کی تشریحات نے اسے تباہ کر دیا ہے۔ اس سوچ  نے انھیں بہت سے علماء اور صوفیاء سے منحرف کر دیا تھا۔ محمد علی بن سنوسی  اپنے استاد کی وفات کے بعد عرب سے لیبیا  میں آ گئے اور سنوسی تحریک کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک اصلاحی اور تبلیغی تحریک تھی جس نے وسطی اور مغربی افریقہ میں اپنے دفاتر کا ایک نیٹ ورک قائم کر لیا۔ سنوسی تحریک میں جنگی سرگرمیوں کے راستے کو بھی آگے بڑھایا گیا۔ صوفی مراکز اور خانقاہوں کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ یہ جگہیں نماز اور اصلاحات کے ساتھ ساتھ جنگی تربیت اور معاشرتی ویلفئیر کیلئے استعمال کی جا سکیں ۔ اس تحریک نے ایک اسلامی ریاست کی تشکیل اور اسلام کی تبلیغ کا عہد کیا تھا۔ اگرچہ یہ لوگ بیرونی دنیا سے تو نہیں الجھتے تھے لیکن سنوسی کی اولاد نے یورپی استعماری نظام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنی شروع کر دی۔ ان کے پوتے نے اٹلی کی غاصبانہ حکومت کے سامنے رکاوٹ کھڑی کی اور آزادی کے موقع پر لیبیا کے شاہ ادریس اول بنے۔  زیادہ تر اخلاقی پہلو پر کام کرنے کے باوجود امام سنوسی نے بھی جنگِ عظیم اول میں جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ اس تحریک کے مراکز میں جنگی تربیت کے ساتھ ساتھ مختلف پیشوں جیسے زراعت ، باغبانی ، پارچہ بافی ، معماری اور نجاری کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ باہمی تنازعات بھی انھی مراکز میں طے پاتے تھے۔ اس تحریک کے مبلغین کی تبلیغی کوششوں سے سوڈان ، صحرائے اعظم  اور مغربی افریقہ میں لاکھوں زنگی حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ عام مسلمانوں کی اخلاقی حالت بہت حد تک سدھر گئی اور وہ مقامات جو پہلے جرائم پیشہ افراد کا مسکن تھے امر اور سلامتی کا گہوارہ بن گئے۔ غرض سنوسی تحریک نے اپنے پیروکاروں کے دِل میں احیائے اسلام کا جذبہ،  عالمگیر اخوتِ اسلامیہ کا داعیہ اور ملک کی عزت و آبرو کے لیے جان قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: